MOJ E SUKHAN

ناتوانی سی ناتوانی ہے

ناتوانی سی ناتوانی ہے
ختم ہونے کو اب کہانی ہے

ساری تحریر ہو گئی غارت
اب تو جو کچھ بھی ہے زبانی ہے

کچھ سمجھ میں مرے نہیں آتا
کون مورکھ ہے کون گیانی ہے

تم پریشان ہو رہے ہو کیوں
داؤ پر میری زندگانی ہے

در و دیوار پر نظر رکھنا
سخت مشکل میں نگہبانی ہے

بند کمرے میں اس لیے ہوں میں
تیری خوشبو تری نشانی ہے

زعم کس بات کا ہے تجھ کو بتا
عشق میرا بھی جاودانی ہے

پھر ارادہ ہے عشق کرنے کا
پھر مصیبت نئی اٹھانی ہے

گھر میں پتھر ابھی بھی تے ہیں
اب بھی لوگوں کی مہربانی ہے

دل کو پتھر بھی کر نہیں سکتا
کس قیامت کی نوجوانی ہے

محمود صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم