MOJ E SUKHAN

ناشگفتہ کلیوں میں شوق ہے تبسم کا

غزل

ناشگفتہ کلیوں میں شوق ہے تبسم کا
بار سہہ نہیں سکتیں دیر تک تلاطم کا

جانے کتنی فریادیں ڈھل رہی ہیں نغموں میں
چھڑ رہی ہے دکھ کی بات نام ہے ترنم کا

کتنے بے کراں دریا پار کر لیے ہم نے
موج موج میں جن کی زور تھا تلاطم کا

اے خیال کی کلیو اور مسکرا لیتیں
کچھ ابھی تو آیا تھا رنگ سا تبسم کا

گفتگو کسی سے ہو تیرا دھیان رہتا ہے
ٹوٹ ٹوٹ جاتا ہے سلسلہ تکلم کا

حسرت و محبت سے دیکھتے رہو جاویدؔ
ہاتھ آ نہیں سکتا حسن ماہ و انجم کا

فرید جاوید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم