غزل
نام ہوا بدنام کسی کا
نام کسی کا کام کسی کا
جب سے کسی پر دل آیا ہے
ختم ہوا آرام کسی کا
حسن فریب عشق نہ پوچھو
صید کسی کا دام کسی کا
منہ میں مصری گھول رہا ہوں
ہے جو زباں پر نام کسی کا
تیرے قرباں اچھے ساقی
پھیر نہ خالی جام کسی کا
منزل حق میں تیری انا کیوں
بھول نہ جا انجام کسی کا
راہ وفا آسان نہیں ہے
پہلے دامن تھام کسی کا
میرے ہمیشہ کام آیا ہے
ہر مشکل میں نام کسی کا
وہ بھی کوئی بندہ جو کاملؔ
صبح کسی کا شام کسی کا
کامل شطاری