MOJ E SUKHAN

نظم اسکول

نظم اسکول

اجلی دھوپ ہے
فرش گیہ پر

اجلی دھوپ میں فرش گیہ پر روشن اور درخشاں لمحوں
کی شبنم ہے

سبز درختوں میں خنداں چہروں کی چاندی ہے
سونا ہے

ان لمحوں سے
ان پھولوں سے

سبز درختوں کے پتوں سے
جز دانوں کی جیبیں بھر لو

کل جب سورج زیست کی چھت پر برف کی صورت
جم جائے گا

کل جب راتیں
راکھ کی صورت بجھ جائیں گی

اس ایندھن کے سوکھے پتے
آتش دان کے کام آئیں گے

اختر حسین جعفری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم