MOJ E SUKHAN

نفس سے جو لڑا نہیں کرتے

غزل

نفس سے جو لڑا نہیں کرتے
روح پر وہ جلا نہیں کرتے

کیوں نہ ہو پھر فساد دنیا میں
لوگ خوف خدا نہیں کرتے

اہل دل اہل ظرف اہل نظر
بات دل کی کہا نہیں کرتے

ان کا جینا عبث ہے دنیا میں
جو کسی کا بھلا نہیں کرتے

بزم عشرت میں عاشقان طرب
نالۂ دل سنا نہیں کرتے

دوستی کیا کروں میں پھولوں سے
یہ ہمیشہ کھلا نہیں کرتے

درس لو ٹوٹتے حبابوں سے
سر اٹھا کر چلا نہیں کرتے

اے جلیؔ دہر کے ستائے ہوئے
زندگی کی دعا نہیں کرتے

جلی امروہوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم