نور ہی نور میں نہایا ہوا
وہ سراپا ہے جگمگایا ہوا
جس سےملنے کو سب ترستے ہیں
وہ حصارِسخن میں آیا ہوا
نغمگی کیوں نہ ہو فضاؤں میں
میرا نغمہ ہے گنگنایا ہوا
روح میں کِرچیاں غموں کی ہیں
شیشہء دل ہے چوٹ کھایا ہوا
میں اسی کے ثمر سے ہوں محروم
جو ہے میرا شجر لگایا ہوا
مدتوں تھا جو تیرے دل کے قریب
ایک پل میں وہ کیوں پرایا ہوا
اس کی باتوں میں سوز ہے، شاید
بزم جاناں کا ہے اٹھایا ہوا
رنگ جتنا ہے شاعری میں قمر
تیری تصویر سے چُرایا ہوا
قمرسُرور