MOJ E SUKHAN
No Record Found
بھری ہے دل میں جو حسرت کہوں تو کس سے کہوں
آ گیا جب سے نظر وہ شوخ ہرجائی مجھے
وہ پھول تھا جادو نگری میں جس پھول کی خوشبو بھائی تھی
اس جنگل سے جب گزرو گے تو ایک شوالہ آئے گا
حسد سے دل اگر افسردہ ہے گرم تماشا ہو
آنکھوں سے حیا ٹپکے ہے انداز تو دیکھو
جنوں کی بستی میں آ گۓ ہو ذرا سنبھل کے – Jinon
دور تک چاروں طرف میرے سوا کوئی نہ تھا
خدا کے سامنے روز جزا ہوں گے تو ہم ہوں گے
آتش دلِ زار میں لگائی اس نے رباعی
تھا ہم سے بھی ربط یا کہ نہ تھا
جب سے وہ گئے ادھرنہیں یاد کیا رباعی
یہ حکم خدا کا کہ قطرہ مے کا نہ پیوں – Ye
مومن لازم ہے وضع مرغوب بنے
رباعیات حکیم عمر خیام نیشا پوری
کیا تیری جدائی میں ستم دیکھتے ہیں رباعی امیر مینائی
غائب بہت اے جان جہاں رہتے ہو رباعی امیر مینائی
باغوں میں جو قمریاں ہیں سب مٹی ہیں رباعی قلندر
سب ستارے لٹا دیۓ میں نے
ہوا کے واسطے اک کام چھوڑ آیا ہوں
ہوائے تیز ترا ایک کام آخری ہے
اک چراغِ آرزو پھر سے جلانا ہے مجھے
عشق جب تک جان و دل کا رہنما ہوتا نہیں
رازداں ہم نے بنایا آپ کو
جرم الفت کی سزا دینے لگے
از رہِ التفات بنتی ہے
میں نے تو درد کو سینے میں چھپا رکھا ہے
سنو اے باوفا لڑکے
تمہاری خاطر نقاب اوڑھوں نہ گھر سے نکلوں
تیرے جانے سے کچھ نہیں بدلا
ہو نے سر جو بدلا ہے
ادھر ادھر کی نہ تم سنانا بچھڑنے والے بتا کے جانا
آجکل دل کا عجب حال ہوا ہے جاناں
جا ترے بس میں نہیں یار محبت کرنا
نظم ہونے لگی
سنو میں مان لوں کیسے تمہیں مجھ سے محبت ہے