MOJ E SUKHAN

وہ جو ممکن نہ ہو ممکن یہ بنا دیتا ہے

وہ جو ممکن نہ ہو ممکن یہ بنا دیتا ہے
خواب دریا کے کناروں کو ملا دیتا ہے

زندگی بھر کی ریاضت مری بیکار گئی
اک خیال آیا تھا بدلے میں وہ کیا دیتا ہے

اب مجھے لگتا ہے دشمن مرا اپنا چہرہ
مجھ سے پہلے یہ مرا حال بتا دیتا ہے

چند جملے وہ ادا کرتا ہے ایسے ڈھب سے
میرے افکار کی بنیاد ہلا دیتا ہے

یہ بھی اعجاز محبت ہے کہ رونے والا
روتے روتے تجھے ہنسنے کی دعا دیتا ہے

زندگی جنگ ہے اعصاب کی اور یہ بھی سنو
عشق اعصاب کو مضبوط بنا دیتا ہے

بیٹھے بیٹھے اسے کیا ہوتا ہے جانے تیمورؔ
جلتا سگرٹ وہ ہتھیلی پہ بجھا دیتا ہے

یہ جہاں اس لیے اچھا نہیں لگتا تیمورؔ
جب بھی دیتا ہے مجھے تیرا گلا دیتا ہے

تیمور حسن تیمور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم