MOJ E SUKHAN

وہ سرد دھوپ ریت سمندر کہاں گیا

غزل

وہ سرد دھوپ ریت سمندر کہاں گیا
یادوں کے قافلے سے دسمبر کہاں گیا

کٹیا میں رہ رہا تھا کئی سال سے جو شخص
تھا عشق نام جس کا قلندر کہاں گیا

طوفان تھم گیا تھا ذرا دیر میں مگر
اب سوچتی ہوں دل سے گزر کر کہاں گیا

تیری گلی کی مجھ کو نشانی تھی یاد پر
دیوار تو وہیں ہے ترا در کہاں گیا

چائے کے تلخ گھونٹ سے اٹھتا ہوا غبار
وہ انتظار شام وہ منظر کہاں گیا

اس کی سیاہ رنگ سے نسبت عجیب تھی
وہ خوش لباس ہجر پہن کر کہاں گیا

رکھا نہیں تھا لوح محبت پہ آج پھول
کس بات پر خفا تھا مجاور کہاں گیا

سدرہ سحر عمران

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم