MOJ E SUKHAN

وہ عالم ہے کہ منہ پھیرے ہوئے عالم نکلتا ہے

غزل

وہ عالم ہے کہ منہ پھیرے ہوئے عالم نکلتا ہے
شب فرقت کے غم جھیلے ہوؤں کا دم نکلتا ہے

الٰہی خیر ہو الجھن پہ الجھن بڑھتی جاتی ہے
نہ میرا دم نہ ان کے گیسوؤں کا خم نکلتا ہے

قیامت ہی نہ ہو جائے جو پردے سے نکل آؤ
تمہارے منہ چھپانے میں تو یہ عالم نکلتا ہے

شکست رنگ رخ آئینۂ بے تابئ دل ہے
ذرا دیکھو تو کیوں کر غم زدوں کا دم نکلتا ہے

نگاہ التفات مہر اور انداز دل جوئی
مگر اک پہلوئے بے تابئ شبنم نکلتا ہے

صفیؔ کشتہ ہوں نا‌ پرسانیوں کا اہل عالم کی
یہ دیکھوں کون میرا صاحب ماتم نکلتا ہے

صفی لکھنوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم