MOJ E SUKHAN

وہ کھل کر مجھ سے ملتا بھی نہیں ہے

غزل

وہ کھل کر مجھ سے ملتا بھی نہیں ہے
مگر نفرت کا جذبہ بھی نہیں ہے

یہاں کیوں بجلیاں منڈلا رہی ہیں
یہاں تو ایک تنکا بھی نہیں ہے

برہنہ سر میں صحرا میں کھڑا ہوں
کوئی بادل کا ٹکڑا بھی نہیں ہے

چلے آؤ مرے ویران دل تک
ابھی اتنا اندھیرا بھی نہیں ہے

سمندر پر ہے کیوں ہیبت سی طاری
مسافر اتنا پیاسا بھی نہیں ہے

مسائل کے گھنے جنگل سے یارو
نکل جانے کا رستہ بھی نہیں ہے

عجب ماحول ہے گلشن کا فرحتؔ
ہوا کا تازہ جھونکا بھی نہیں ہے

فرحت قادری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم