MOJ E SUKHAN

وہ ہے حیرت فزائے چشم معنی سب نظاروں میں

غزل

وہ ہے حیرت فزائے چشم معنی سب نظاروں میں
تڑپ بجلی میں اس کی اضطراب اس کا ستاروں میں

مدد اے اضطراب شوق تو جان تمنا ہے
نکل اے صبر تیرا کام کیا ہے بے قراروں میں

یہ کس کا نام لے کر جان دی بیمار الفت نے
یہ کس ظالم کا چرچا رہ گیا تیمارداروں میں

ذرا سی چھیڑ بھی کافی ہے مضراب محبت کی
کہ نغمے مضطرب ہیں بربط ہستی کے تاروں میں

کہاں کا شغل اب تو دور ہے خوننابۂ غم کا
وہی قسمت میں تھی جو پی چکے اگلی بہاروں میں

عبدالمجید سالک

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم