MOJ E SUKHAN

پتہ ملا ہے وہ تھا میرا ہم سفر بہت دیر بعد جا کر

غزل

پتہ ملا ہے وہ تھا میرا ہم سفر بہت دیر بعد جا کر
کہاں کہاں سے ملی ہے مجھ کو خبر بہت دیر بعد جا کر

میں مدتوں سقف زندگی پر کھڑے کھڑے تم کو دیکھ آیا
یہ تم بھی کیا ہو کہ آئے مجھ کو نظر بہت دیر بعد جا کر

مری تمنا ہے اب کے تم پھر ملو تو جی بھر کے مسکرائیں
کہ دیکھنا ہے یہ روشنی کا سفر بہت دیر بعد جا کر

مجھے بتاؤ میں کیوں نہ اس اٹھتی دھول کے ساتھ بیٹھ جاؤں
مجھے خبر ہے وہ آئے گا بام پر بہت دیر بعد جا کر

خراب موسم میں ہر شجر سے لرزتے پتوں نے کیا کہا تھا
کہ پھول آنے لگے ہیں اب شاخ پر بہت دیر بعد جا کر

قیامتوں کی طرح گزاریں گے یہ مہ و سال ہجرتوں کے
تمام ہوگا جدائیوں کا سفر بہت دیر بعد جا کر

مری غزل میں جب آئے جعفرؔ نظر انہیں معرکے ہنر کے
ہوئے مرے معترف سب اہل نظر بہت دیر بعد جا کر

جعفر شیرازی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم