Parai Aag main Din Raat jalnay walay loog
غزل
پرائی آگ میں دن رات جلنے والے لوگ
کہاں گئے وہ مرے غم میں ڈھلنے والے لوگ
دئے بجھے تو مرے خواب ہوگئے روشن
نظر میں آگئے دل میں مچلنے والے لوگ
اُدھار پاؤں پہ چل کر وہ پاگئے منزل
نشاں بھی پا نہ سکے تیز چلنے والے لوگ
سلگتی دھوپ میں جینے کو ہوگئے مجبور
وہ چاندنی کی تپش سے پگھلنے والے لوگ
سنا ہے رہبرِ اعظم بنائے جائیں گے
ہر ایک موڈ پہ رستے بدلنے والے لوگ
فقیرِ شہر کی آنکھوں میں ہوگئے معتوب
امیرِ شہر سے آگے نکلنے والے لوگ
فراز آج بہت کم دکھائی دیتے ہیں
قدم قدم پہ بہک کر سنبھلنے والے لوگ
سرفراز احمد فراز دہلوی
Sarfaraz Ahmed Faraz Dehlvi