MOJ E SUKHAN

پیار کے سلسلے بھی رکھے ہیں

پیار کے سلسلے بھی رکھے ہیں
اور کچھ فاصلےبھی رکھے ہیں

روز ہوتے ہیں دو بہ دو ان سے
دل تو پیہم ملے بھی رکھے ہیں

چاہتوں میں کمی جو پائی کبھی
درمیاں سب گلے بھی رکھے ہیں

ایک دوجے کی ٹال دی ہنس کر
ہم نے یہ حوصلے بھی رکھے ہیں

ان سے خاور ہزار شکوے سہی
دوستی کے صلے بھی رکھے ہیں

خاور کمال صدیقی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم