MOJ E SUKHAN

کب تک رہوں میں خوف زدہ اپنے آپ سے

کب تک رہوں میں خوف زدہ اپنے آپ سے

اک دن نکل نہ جاؤں ذرا اپنے آپ سے

۔

جس کی مجھے تلاش تھی وہ تو مجھی میں تھا

کیوں آج تک میں دور رہا اپنے آپ سے

۔

دنیا نے تجھ کو میرا مخاطب سمجھ لیا

محو سخن تھا میں تو سدا اپنے آپ سے

۔

تجھ سے وفا نہ کی تو کسی سے وفا نہ کی

کس طرح انتقام لیا اپنے آپ سے

۔

لوٹ آ درون دل سے پکارے کوئی مجھے

دنیا کی آرزو میں نہ جا اپنے آپ سے

حمایت علی شاعر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم