Kitna Haseen Moor Kahani Main aagaya
غزل
کتنا حسین موڑ کہانی میں آگیا
بھیگا بدن پلٹ کے جو پانی میں آگیا
اپنا بدن سمیٹ کے گلدان میں رکھا
وہ بھی سنور کے رات کی رانی میں آگیا
لانا تھا مجھ کو شبنمی پھولوں کا اقتباس
ہر زخم دل کے ساتھ روانی میں آگیا
قطرہ ملا تو میں نے سمندر بنا دیا
تُو بھی مرے سخن کے معانی میں آگیا
تیرے حسیں فریب کا میں ذکر کیا کروں
وہ چل کے خود ہی مصرعہء ثانی میں آگیا
آوارگئِ عشق کا منظر سمیٹ کر
بوڑھا خیال میری جوانی میں آگیا
یہ دیکھنا ہے کون بڑھاتا ہے اپنا ہاتھ
میں بھی ولیؔ کے ساتھ گرانی میں آ گیا
شاہ روم خان ولی
Shah Room Khan Wali
۔