MOJ E SUKHAN

کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے

کسی کو اپنے عمل کا حساب کیا دیتے
سوال سارے غلط تھے جواب کیا دیتے

خراب صدیوں کی بے خوابیاں تھیں آنکھوں میں
اب ان بے انت خلاؤں میں خواب کیا دیتے

ہوا کی طرح مسافر تھے دلبروں کے دل
انہیں بس ایک ہی گھر کا عذاب کیا دیتے

شراب دل کی طلب تھی شرع کے پہرے میں
ہم اتنی تنگی میں اس کو شراب کیا دیتے

منیرؔ دشت شروع سے سراب آسا تھا
اس آئنے کو تمنا کی آب کیا دیتے

منیر نیازی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم