MOJ E SUKHAN

کلاہ کج بدل جاتی ہے یا افسر بدلتا ہے

غزل

کلاہ کج بدل جاتی ہے یا افسر بدلتا ہے
ابھی کھلتا نہیں کیا وقت کا تیور بدلتا ہے

یہ دیکھا ہے کہ محور استوا اوپر بدلتا ہے
فلک صدیوں پرانی نیلگوں چادر بدلتا ہے

دلوں میں سوز غم والے دھوئیں بھی آرزوئیں بھی
عجم والا مسلماں ہر صدی میں گھر بدلتا ہے

نشاں کردہ گھروں کو چھوڑ بھاگے گھر جو لوٹے ہیں
تو دیکھا پچھلی شب دہلیز کا نمبر بدلتا ہے

ہر اک فرعون کے احوال غرقابی جداگانہ
کبھی دریا بدلتا ہے کبھی لشکر بدلتا ہے

زمانہ احتراماً گھوم جاتا ہے اسی جانب
جو اچھائی کو اک انسان رتی بھر بدلتا ہے

ہم اب مغرب کے دست آموز دنیا کو نہیں لگتے
اگ آئیں بال و پر اپنے تو بال و پر بدلتا ہے

کوئی دروازہ بھیتر کی طرف کھلتا نہیں احساںؔ
وہی اندر کی کالک ہے فقط باہر بدلتا ہے

احسان اکبر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم