MOJ E SUKHAN

کوئی سمجھا نہیں لگی دل کی

غزل

کوئی سمجھا نہیں لگی دل کی
بات دل میں سدا رہی دل کی

کتنے نایاب ہو گئے وہ لوگ
جو دعا لیتے تھے دکھی دل کی

مفلسی میں بھی دن کٹیں اچھے
ہو جو حاصل تونگری دل کی

ان دیوں کو بھی تو کرو روشن
دور کر دیں جو تیرگی دل کی

دل نہ چھوڑے اسے کہیں کا بھی
بات مانے جو آدمی دل کی

دوست سمجھا دیوں کا آندھی کو
اور کیا ہوگی سادگی دل کی

شہر سجتے رہے مگر ہاتفؔ
بزم سونی پڑی رہی دل کی

ہاتف عارفی فتح پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم