MOJ E SUKHAN

کہیں صحرا میں جو دریا دیکھیں

کہیں صحرا میں جو دریا دیکھیں
ہم بھی آئینے میں چہرا دیکھیں

ہم محبت کے لئے خاک اڑائیں
لوگ گلیوں میں تماشا دیکھیں

صبر آ جائے اگر اپنا یہ حال 
جن کی خاطر ہے وہ تنہا دیکھیں

بند آنکھوں میں بڑی وسعت ہے
بند آنکھوں ہی سے دنیا دیکھیں

گھر ہے موسم سے بچانا مشکل
جانب ابر و ہوا کیا دیکھیں

اتنی دیوار گلستا نہ بڑھاؤ
کہ بیاباں مرا رستا دیکھیں

اب یہ مشکل تمنا ہے کہ ہم
عمر بھی خواب تمنا دیکھیں

ہم بشر ہیں نہ کہ صحرا کہ شجر
جو سدا اپنا ہی سایہ دیکھیں

محشر بدایونی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم