MOJ E SUKHAN

کیا بتاؤں کہ اب خدا کیا ہے

غزل

کیا بتاؤں کہ اب خدا کیا ہے
آئنے میں یہ دوسرا کیا ہے

سر سے پا تک مری نگاہ میں ہو
منہ چھپانے سے فائدہ کیا ہے

مسکراتا ہے جان لے کر بھی
اب خدا جانے چاہتا کیا ہے

دعویٔ عشق ہم تو کر بیٹھے
تو سنا تیرا فیصلہ کیا ہے

ہے بہت کچھ ابھی تو پردے میں
دیکھتا جا ابھی ہوا کیا ہے

علم بھی اک حجاب ہے ناداں
جانتا ہے تو جانتا کیا ہے

وہ خدا ہو کہ ناخدا اے دلؔ
ڈوبنا ہے تو سوچتا کیا ہے

دل ایوبی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم