کیا ہُوا جانے کیسا سِتم ہو گیا
اُس کااشکوں سے چہرہ جونم ہوگیا
جس کی باتوں کا کوئی بھروسہ نہیں
سب کی نظروں میں وہ محترم ہو گیا
غم کے بادل مِرے سر سے چھَٹنےلگے
مُجھ پہ رب کا کُچھ ایسا کَرَم ہو گیا
عشق لیجئے مرے دوستو قلبِ شاں
پھول میں بو کی مانند ضم ہو گیا
مِٹ گئیں جاہلیّت کی نسلیں تمام
جب جہاں میں خِرد کا جَنَم ہو گیا
جانتا ہے مگر پھر بھی انجان ہے
اُس کو دیکھا توغم میرا کم ہو گیا
جیسے ہی ہو گئی میری تازہ غزل
دیکھو “شہناز” دل تازہ دم ہو گیا
شہناز رضوی