کیسا عجب ہے خوشبوئے دلگیر کا نشہ
جیسے کسی پرانی ہو تصویرکا نشہ
اک خوب تر سوال لکھا تھا کتاب میں
کس نے چکھا ہے مستی و توقیر کا نشہ
اک تو ترے وجود نے آتش بنا دیا
پھر یوں تمہارے قُرب کی تنویر کا نشہ
امرا ہیں آپ سے مری بس اتنی التجا
تھوڑا سا کم تو کیجیے چاگیر کا نشہ
لپٹاہوا ہے اب بھی مرےجسم وجان سے
تیرے حسین قُرب کی تاثیر کا نشہ
مدیحہ شوق