کیسا وہ چپ چاپ کھڑا ہے دیکھو تو
جس نے ہر بہتان گھڑا ہے دیکھو تو
کچا ہی ہر بار گھڑا ہے دیکھو تو
یا دریا کا پاٹ بڑا ہے دیکھو تو
دستک تو مانوس ہے شاید وہ ہی ہو
دروازے پر کون کھڑا ہے دیکھو تو
کس کو چھوڑے اور کسے اپنائے دل
مشکل میں یہ آن پڑا ہے دیکھو تو
تم ے جو اک پھول تھا بھیجا پیلا سا
خنجر سا وہ آن گڑا ہے دیکھو تو
مصلحتوں کا جھوٹ لبادہ اوڑھے ہے
سچ ہی اب بھی دار چڑھا ہے دیکھو تو
پہلے تو ہر بات پہ سر خم ہوتے تھے
کوئی اب کی بار اڑا ہے دیکھو تو
ظلمت کی منہ زور ہوا سے عظمی جی
ننھا سا اک دیپ لڑا ہے دیکھو تو
عظمی جون