MOJ E SUKHAN

گم شدہ موسم کا آنکھوں میں کوئی سپنا سا تھا

غزل

گم شدہ موسم کا آنکھوں میں کوئی سپنا سا تھا
بادلوں کے اڑتے ٹکڑوں میں ترا چہرا سا تھا

پھر کبھی مل جائے شاید زندگی کی بھیڑ میں
جس کی باتیں پیاری تھیں اور نام کچھ اچھا سا تھا

جاں بلب ہونے لگا ہے پیاس کی شدت سے وہ
خشک ریگستان میں اک شخص جو دریا سا تھا

گھر گیا ہے اب تو شعلوں میں مرا سارا وجود
اس کی یادیں تھیں تو سر پر اک خنک سایا سا تھا

اس نے اچھا ہی کیا رشتوں کے دھاگے توڑ کر
میں بھی کچھ اکتا گیا تھا وہ بھی کچھ اوبا سا تھا

شہر کی ایک ایک شے اپنی جگہ پر ہے نظرؔ
کیا ہوا وہ آدمی کچھ کچھ جو دیوانا سا تھا

بدنام نظر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم