MOJ E SUKHAN

ہجوم غم میں اگر مسکرا سکو تو چلو

غزل

ہجوم غم میں اگر مسکرا سکو تو چلو
کہ ظلمتوں میں کرن بن کے آ سکو تو چلو

جہاں سے شیوۂ باطل مٹا سکو تو چلو
یہ عزم لے کے مرے ساتھ آ سکو تو چلو

اک انقلاب خیالوں میں لا سکو تو چلو
کہ سو رہا ہے زمانہ جگا سکو تو چلو

شعور فکر و نظر کو بلند کرنا ہے
جو لغزشوں کو سہارا بنا سکو تو چلو

اٹھیں گے راہ میں دار و رسن کے ہنگامے
وفا پرستوں کی ہمت بڑھا سکو تو چلو

برنگ نالہ جو دل میں تو ہے زباں پہ نہیں
وہی ترانہ سر دار گا سکو تو چلو

ہے ضبطؔ عام ہماری یہ دعوت مشروط
اگر ضمیر کو اپنے جگا سکو تو چلو

ضبط انصاری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم