ہر اک آواز اب اردو کو کو فریادی بتاتی ہے
یہ پگلی پھر بھی اب تک خود کو شہزادی بتاتی ہے
کئی باتیں محبت سب کو بنیادی بتاتی ہے
جو پردادی بتاتی تھی وہی دادی بتاتی ہے
جہاں پچھلے کئی برسوں سے کالے ناگ رہتے ہیں
وہاں ایک گھونسلا چڑیوں کا تھا، دادی بتاتی ہے
ابھی تک یہ علاقہ ہے رواداری کے قبضے میں
ابھی فرقہ پرستی کم ہے آبادی بتاتی ہے
یہاں ویرانیوں کی ایک مدت سے حکومت ہے
یہاں سے نفرتیں گزری ہیں بربادی بتاتی ہے
لہو کیسے بہایا جائے یہ لیڈر بتاتے ہیں
لہو کا ذائقہ کیسا ہے یہ کھادی بتاتی ہے
غلامی نے ابھی تک ملک کا پیچھا نہیں چھوڑا
ہمیں پھر قید ہونا ہے یہ آزادی بتاتی ہے
غریبی کیوں ہمارے شہر سے باہر نہیں جاتی
امیر شہر کے گھر کی ہر اک شادی بتاتی ہے
میں ان آنکھوں کے میخانے میں تھوڑی دیر بیٹھا تھا
مجھے دنیا نشے کا آج بھی عادی بتاتی ہے
منور رانا