MOJ E SUKHAN

ہر سمت قتل گاہ کا منظر ہے آج بھی

غزل

ہر سمت قتل گاہ کا منظر ہے آج بھی
پوشیدہ آستینوں میں خنجر ہے آج بھی

ہے امن اور عدل کا شہرا بہت مگر
سرگرم کار دست ستمگر ہے آج بھی

جو مدتوں سے لوٹتا آیا ہے دوستو
افسوس قوم کا وہی رہبر ہے آج بھی

تم سے جدا ہوئے تو زمانہ ہوا مگر
سایہ تمہاری زلفوں کا سر پر ہے آج بھی

تو مہرباں تھا مجھ پہ کبھی یاد ہے مجھے
کیا تو وہی خلوص کا پیکر ہے آج بھی

تعمیر نو کے دور میں اہل مکاں ہیں سب
دانشؔ ہے ایک شخص جو بے گھر ہے آج بھی

دانش فراہی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم