MOJ E SUKHAN

ہر شخص پریشان ہے گھبرایا ہوا ہے

غزل

ہر شخص پریشان ہے گھبرایا ہوا ہے
مہتاب بڑی دیر سے گہنایا ہوا ہے

ہے کوئی سخی اس کی طرف دیکھنے والا
یہ ہاتھ بڑی دیر سے پھیلایا ہوا ہے

حصہ ہے کسی اور کا اس کار زیاں میں
سرمایہ کسی اور کا لگوایا ہوا ہے

سانپوں میں عصا پھینک کے اب محو دعا ہوں
معلوم ہے دیمک نے اسے کھایا ہوا ہے

دنیا کے بجھانے سے بجھی ہے نہ بجھے گی
اس آگ کو تقدیر نے دہکایا ہوا ہے

کیا دھوپ ہے جو ابر کے سینے سے لگی ہے
صحرا بھی اسے دیکھ کے شرمایا ہوا ہے

اصرار نہ کر میرے خرابے سے چلا جا
مجھ پر کسی آسیب کا دل آیا ہوا ہے

تو خواب دگر ہے تری تدفین کہاں ہو
دل میں تو کسی اور کو دفنایا ہوا ہے

فیصل عجمی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم