MOJ E SUKHAN

ہم دوش آرزو جو نہ عزم جواں رہے

غزل

ہم دوش آرزو جو نہ عزم جواں رہے
منزل رہے کوئی نہ کوئی کارواں رہے

روحوں کے ایک خاص تعلق کے باوجود
جسموں کے فاصلے بھی سدا درمیاں رہے

سوز خلوص درد محبت غم وفا
یہ قافلہ بھی ساتھ رہا ہم جہاں رہے

ہم عالم خیال سے آگے نہ بڑھ سکے
جب تک خراب منزل وہم و گماں رہے

اے انقلاب نو تری رفتار دیکھ کر
خود ہم بھی سوچتے ہیں کہ اب تک کہاں رہے

گو منزل حیات بہت سخت ہے مگر
شوکتؔ ہجوم غم میں بھی ہم شادماں رہے

شوکت پردیسی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم