ہم نے آداب غم کا پاس کیا
نقد جاں کو زیاں قیاس کیا
۔
زیست کے تجربات کا ہم نے
مثل آئینہ انعکاس کیا
۔
خبر آگہی کے پردے میں
عمر بھر ماتم حواس کیا
۔
تہمت شعلۂ زباں لے کر
صورت زخم التماس کیا
۔
کیسے اک لفظ میں بیاں کر دوں
دل کو کس بات نے اداس کیا
۔
آ گیا جب سلیقۂ تعمیر
قصر ہستی کو بے اساس کیا
۔
کیوں سحرؔ تم نے اپنے صحرا کو
موج دریا سے روشناس کیا
سحر انصاری