MOJ E SUKHAN

ہوا جب نفس ہی نادان اپنا

ہوا جب نفس ہی نادان اپنا
تو سارا جگ بنا زندان اپنا

غلاظت سے بھرا ہے ذہن لیکن
صفائی نصف ہے ایمان اپنا

زمانے میں بنی ذلت مقدر
مگر بدلا نہیں رجحان اپنا

یہی ہم کو گماں ہے کہ فلک سے
کُمک بھیجے گا وہ رحمان اپنا

خلیلِ رب کی سنت تو یہی ہے
عزیزِ جاں کرو قربان اپنا

ودیعت خاص ہے یہ تو خدا کی
خودی ہے اصل میں وجدان اپنا

اے میرے عہد کے تم نو جوانو
لکھو قسمت نئی، عنوان اپنا

خدا حافظ تمہیں کہتی ہے تشؔنہ
بہت رکھنا سبھی دھیان اپنا

حمیرہ گل تشنہ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم