ہو گئی بات پرانی پھر بھی
یاد ہے مجھ کو زبانی پھر بھی
۔
موجۂ غم نے تو دم توڑ دیا
رہ گیا آنکھ میں پانی پھر بھی
۔
میں نے سوچا بھی نہیں تھا اس کو
ہو گئی شام سہانی پھر بھی
۔
چشم نم نے اسے جاتے دیکھا
دل نے یہ بات نہ مانی پھر بھی
۔
لوگ ارزاں ہوئے جاتے ہیں یہاں
بڑھتی جاتی ہے گرانی پھر بھی
۔
بریدہ لائے ہو دربار میں تم
یاد ہے شعلہ بیانی پھر بھی
۔
بھول جوتے ہیں مسافر رستہ
لوگ کہتے ہیں کہانی پھر بھی
عنبرین حسیب عنبر