یار یہ کیا بنا ہوا ہوں میں
اک معمہ بنا ہوا ہوں میں
ہے حقیقت میں یہ تماشہِ خواب
یا تماشا بنا ہوا ہوں میں
کل تلک پیاس تھی مری پہچان
آج دریا بنا ہوا ہوں میں
پائے مالی مرا مقدر ہے
آپ رستا بنا ہوا ہوں میں
خود کو پہچاننے کی خواہش میں
صرف چہرہ بنا ہوا ہوں میں
خود کو محفوظ کر لیا یعنی
سرد خانہ بنا ہوا ہوں میں
آ ہی جائے مری طرف سیلاب
خوب اونچا بنا ہوا ہوں میں
کھو گئی ہیں کہیں مری آنکھیں
اب تماشا بنا ہوا ہوں میں
آپ جیسا بنا رہے تھے مجھے
ٹھیک ویسا بنا ہوا ہوں میں
کیا نہیں ہوں میں آپ ہی جیسا
کیا فرشتہ بنا ہوا ہوں میں
کس قدر شور ہے مرے اندر
چائے خانہ بنا ہوا ہوں میں
عتیق احمد جیلانی