MOJ E SUKHAN

یوں تو کہنے کو تری راہ کا پتھر نکلا

یوں تو کہنے کو تری راہ کا پتھر نکلا
تو نے ٹھوکر جو لگا دی تو مرا سر نکلا

لوگ تو جا کے سمندر کو جلا آئے ہیں
میں جسے پھونک کر آیا وہ مرا گھر نکلا

ایک وہ شخص جو پھولوں سے بھرے تھا دامن
ہر کف گل میں چھپائے ہوئے خنجر نکلا

یوں تو الزام ہے طوفاں پہ ڈبو دینے کا
تہہ میں دریا کی مگر ناؤ کا لنگر نکلا

گھر کے گھر خاک ہوئے جل کے ندی سوکھ گئی
پھر بھی ان آنکھوں میں جھانکا تو سمندر نکلا

فرش تا عرش کوئی نام و نشاں مل نہ سکا
میں جسے ڈھونڈھ رہا تھا مرے اندر نکلا

بیکل استاہی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم