MOJ E SUKHAN

یہ ان کی نظر کا اثر دیکھتے ہیں

یہ ان کی نظر کا اثر دیکھتے ہیں
ہمیں آپ جو باہنر دیکھتے ہیں

کوئی ان سا لاکھوں میں دیکھا نہیں ہے
یہ دنیا میں سب ڈھونڈ کر دیکھتے ہیں

سدا ان کے چہرے سے پاکر ضیائیں
چمکتے یہ شمس و قمر دیکھتے ہیں

کوئی مل ہی جائے گی تعبیر ہم کو
حسیں خواب جو رات بھر دیکھتے ہیں

کٹھن راستوں کی بھی پروا نہیں ہے
انہیں ساتھ جو ہم سفر دیکھتے ہیں

چمکتا ہوا آفتاب ان کی صورت
"غضب ہے اگر آنکھ بھر دیکھتے ہیں”

جنہیں تھا غرور و تکبر ہمیشہ
گرا اُن کا قدموں میں سر دیکھتے ہیں

کسی سے بھی ہم دوستی سے بھی پہلے
وہ کتنا ہے اب معتبر دہکھتے ہیں

ملا درس ہم کو سدا عاجزی کا
پھلوں سے لدے جب شجر دیکھتے ہیں

ہمیشہ کا جینا تو ہے آخرت کا
جہاں کو سخی مختصر دیکھتے ہیں

سخی سرمست

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم