یہ ان کی نظر کا اثر دیکھتے ہیں
ہمیں آپ جو باہنر دیکھتے ہیں
کوئی ان سا لاکھوں میں دیکھا نہیں ہے
یہ دنیا میں سب ڈھونڈ کر دیکھتے ہیں
سدا ان کے چہرے سے پاکر ضیائیں
چمکتے یہ شمس و قمر دیکھتے ہیں
کوئی مل ہی جائے گی تعبیر ہم کو
حسیں خواب جو رات بھر دیکھتے ہیں
کٹھن راستوں کی بھی پروا نہیں ہے
انہیں ساتھ جو ہم سفر دیکھتے ہیں
چمکتا ہوا آفتاب ان کی صورت
"غضب ہے اگر آنکھ بھر دیکھتے ہیں”
جنہیں تھا غرور و تکبر ہمیشہ
گرا اُن کا قدموں میں سر دیکھتے ہیں
کسی سے بھی ہم دوستی سے بھی پہلے
وہ کتنا ہے اب معتبر دہکھتے ہیں
ملا درس ہم کو سدا عاجزی کا
پھلوں سے لدے جب شجر دیکھتے ہیں
ہمیشہ کا جینا تو ہے آخرت کا
جہاں کو سخی مختصر دیکھتے ہیں
سخی سرمست