MOJ E SUKHAN

یہ لوگ کرتے ہیں منسوب جو بیاں تجھ سے

یہ لوگ کرتے ہیں منسوب جو بیاں تجھ سے
سمجھتے ہیں مجھے کر دیں گے بد گماں تجھ سے

جہاں جہاں مجھے تیری انا بچانا تھی
شکست کھائی ہے میں نے وہاں وہاں تجھ سے

مرے شجر مجھے بازو ہلا کے رخصت کر
کہاں ملیں گے بھلا مجھ کو مہرباں تجھ سے

خدا کرے کہ ہو تعبیر خواب کی اچھی
ملا ہوں رات میں پھولوں کے درمیاں تجھ سے

جدائیوں کا سبب صرف ایک تھا تیمورؔ
توقعات زیادہ تھیں جان جاں تجھ سے

تیمور حسن تیمور

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم