یہ ویراں شہر میرا کس لیے ہے
لگاۓ خوف ڈیرا کس لیے ہے
یہی تھا پیڑ کٹنے کا سبب کیا
کہ وہ اتنا گھنیرا کس لیے ہے
بھنور میں آ گیا میرا سفینہ
سمندر شور تیرا کس لیے ہے
اگر یہ شہر ہے شہرِ اماں تو
چھپا ہر سو لٹیرا کس لیے ہے
میں ہاتھوں پرلیےسورج کھڑاہوں
مرےگھر میں اندھیراکس لیے ہے
یہی میں سوچتا رہتا ہوں اکثر
مجھےسوچوں نےگھیراکس لیےہے
امین آنگن میں اپنے عمر گزری
دُکھوں کا ہی بسیرا کس لیے ہے
امین اڈیرائی