MOJ E SUKHAN

یہ کیا بتائیں کہ کس رہ گزر کی گرد ہوئے

یہ کیا بتائیں کہ کس رہ گزر کی گرد ہوئے
ہم ایسے لوگ خود اپنے سفر کی گرد ہوئے

نجات یوں بھی بکھرنے کے کرب سے نہ ملی
ہوئے جو آئنہ سب کی نظر کی گرد ہوئے

یہ کن دکھوں نے چم و خم تمام چھین لیا
شعاع مہر سے ہم بھی شرر کی گرد ہوئے

سب اپنے اپنے افق پر چمک کے تھوڑی دیر
مجھے تو دامن شام و سحر کی گرد ہوئے

پکارو کہہ کے ہمیں چھاؤں جی نہ بہلے گا
بچے جو دھوپ سے پائے شجر کی گرد ہوئے

ہمیں بھی بولنا آتا ہے پھر بھی ہیں خاموش
کہ ہم ترے سخن مختصر کی گرد ہوئے

دھلا سا چہرہ بھی کچھ ماند پڑ گیا آخر
ہوئے نہ اشک تری چشم تر کی گرد ہوئے

شریر و تند ہوا تھی کہ رو معانی کی
تمام لفظ لب معتبر کی گرد ہوئے

یہ راہ کتنی پر آشوب ہے فضاؔ نہ کہو
قلم کی راہ چلے ہم ہنر کی گرد ہوئے

فضا ابنِ فیضی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم