MOJ E SUKHAN

آؤ نا مجھ میں اتر جاؤ غزل ہونے تک

غزل

آؤ نا مجھ میں اتر جاؤ غزل ہونے تک
تم ذرا اور نکھر جاؤ غزل ہونے تک

میری خاطر ہی ٹھہر جاؤ غزل ہونے تک
آرزو ہے کہ نہ گھر جاؤ غزل ہونے تک

تم اگر چاہو تو ہر شعر شگفتہ ہو جائے
بس مرے دل میں اتر جاؤ غزل ہونے تک

چاند بن کر مری شہرت میں اجالا کر دو
روشنی بن کے بکھر جاؤ غزل ہونے تک

میری جانب سے اجازت ہے چلے جاؤ مگر
دل بہ ضد ہے تو ٹھہر جاؤ غزل ہونے تک

میری آنکھوں سے مرے دل میں پہنچ کر تم بھی
دل کی دھڑکن میں اتر جاؤ غزل ہونے تک

کاش سب رنگ کے ہوں آج مرے سب اشعار
رنگ ہر لفظ میں بھر جاؤ غزل ہونے تک

میرے فن سے تمہیں بے لوث محبت ہے اگر
میری رگ رگ میں اتر جاؤ غزل ہونے تک

شعر کہنے کا سلیقہ بھی سکھا دو مجھ کو
آج یہ کام بھی کر جاؤ غزل ہونے تک

شاعری میں جو ہے رتبے کی تمنا رومیؔ
فکر کی تہ میں اتر جاؤ غزل ہونے تک

رومانہ رومی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم