MOJ E SUKHAN

آئینے پر جمی ہوئی حیرت کو دیکھنا

غزل

آئینے پر جمی ہوئی حیرت کو دیکھنا
کیا بار بار ایک ہی صورت کو دیکھنا

حاصل یہ ہے کہ ایک ہی ہے صفر کا حساب
منفی کو دیکھنا کبھی مثبت کو دیکھنا

اے وقت تو کہیں بھی کسی کا ہوا ہے کیا
کیا تجھ کو دیکھنا تری ساعت کو دیکھنا

دانشوران وقت ہوں جب محو گفتگو
چپ رہ کے درمیاں مری وحشت کو دیکھنا

پہلے تو کام دیکھنا میرا ورائے وقت
پھر کام میں دبی ہوئی فرصت کو دیکھنا

میر احمد نوید

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم