MOJ E SUKHAN

آئیے دہر میں انسان کا چہرہ ڈھونڈیں

غزل

آئیے دہر میں انسان کا چہرہ ڈھونڈیں
بے یقینی میں بھی امکان کا چہرہ ڈھونڈیں

اہل فن دامن اخلاص طلب کرتے ہیں
شہر کی بھیڑ میں پہچان کا چہرہ ڈھونڈیں

عدل پر اپنے سرابوں کا اثر حاوی ہے
دوستوں آؤ کہ میزان کا چہرہ ڈھونڈیں

بھوک سے لوگ تڑپتے ہیں گھروں میں اپنے
اہل ثروت میں ہم احسان کا چہرہ ڈھونڈیں

کھیت میں فصل سحر پکنے لگی ہے پھر سے
ہم ہر اک دانے پہ دہقان کا چہرہ ڈھونڈیں

ہیں ہجوم غم دوراں سے پریشان تو کیا
اپنے اسلاف کے ایوان کا چہرہ ڈھونڈیں

یاس و حسرت کی ریاست میں نہیں ہم تنہا
قریہ قریہ چلو ہیجان کا چہرہ ڈھونڈیں

عبدالمتین جامی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم