غزل
آئے بھی وہ تو شکل دکھا کر چلے گئے
دل کی لگی کو اور بڑھا کر چلے گئے
بیمار غم کے پاس وہ آ کر چلے گئے
بگڑی ہوئی تھی بات بنا کر چلے گئے
ہاں اے نگاہ شوق بتا تو کہاں رہی
وہ گوشۂ نقاب اٹھا کر چلے گئے
گو میکدے میں پی بھی رہے تھے جناب شیخ
ہم تو یہی کہیں گے کہ آ کر چلے گئے
اے جذب دل بتا تو سہی تجھ کو کیا ہوا
کل جب وہ ہم سے آنکھ بچا کر چلے گئے
اٹھیں گے حشر تک نہ ترے آستاں سے ہم
نا اہل ہی وہ ہوں گے جو آ کر چلے گئے
گرنے لگے جو ان پہ بھی پروانے بار بار
وہ شمع انجمن کو بجھا کر چلے گئے
کچھ ہم صفیر ہو گئے صیاد کا شکار
کچھ خود ہی آشیاں کو جلا کر چلے گئے
آخر یہ کوئے عشق ہے ساحرؔ سنبھل کے چل
لاکھوں یہاں سے ٹھوکریں کھا کر چلے گئے
ساحر سیالکوٹی