MOJ E SUKHAN

آتا چلا گیا ہے وہ خوش فکر دھیان میں

غزل

آتا چلا گیا ہے وہ خوش فکر دھیان میں
بڑھتی چلی گئی ہے نفاست بیان میں

یوں کھو گیا ہوں مثنوی سحر البیان میں
شامل ہوں جیسے میں بھی اسی داستان میں

اک پیر چھو گیا ہے کسی مہ جمال کا
اب جشن کا سماں سا ہے کپڑے کے تھان میں

تجھ تک تو میں پہنچ ہی گیا ہوں مگر یہ کیا
دل صرف ہو چکا ہے کہیں درمیان میں

ہم بھی لواحقین ہیں مرحوم عشق کے
لکھیے ہمارا نام بھی آزردگان میں

اس نقش کا نمود سے کیا واسطہ بھلا
آیا نہیں جو اس نگہ مہربان میں

آنکھوں میں تیرتے ہوئے ڈوروں کی خیر ہو
موسم نے کچھ کہا تو نہیں تیرے کان میں

رحمان حفیظ

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم