MOJ E SUKHAN

آج تک دل کی آرزو ہے وہی

غزل

آج تک دل کی آرزو ہے وہی
پھول مرجھا گیا ہے بو ہے وہی

سو بہاریں جہاں میں آئی گئیں
مایۂ صد بہار تو ہے وہی

جو ہو پوری وہ آرزو ہی نہیں
جو نہ پوری ہو آرزو ہے وہی

مان لیتا ہوں تیرے وعدے کو
بھول جاتا ہوں میں کہ تو ہے وہی

تجھ سے سو بار مل چکے لیکن
تجھ سے ملنے کی آرزو ہے وہی

صبر آ جائے اس کی کیا امید
میں وہی، دل وہی ہے، تو ہے وہی

ہو گئی ہے بہار میں کچھ اور
ورنہ ساغر وہی سبو ہے وہی

عمر گزری تلاش میں لیکن
گرمیٔ ہائے جستجو ہے وہی

مے کدہ کا جلیلؔ رنگ نہ پوچھ
رقص جام و خم و سبو ہے وہی

جلیل مانک پوری

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم