MOJ E SUKHAN

آج کیوں نالہ مرا آتش فشاں ہوتا نہیں

آج کیوں نالہ مرا آتش فشاں ہوتا نہیں
شکوہ سنج دوست فریاد زباں ہوتا نہیں

نامہ بر سے مدعا شاید بیاں ہوتا نہیں
جو جواب یار مجھ تک ارمغاں ہوتا نہیں

کیا ہوا نا مہرباں ہے مہرباں ہو جائے گا
مجھ کو بے مہری کا اس پر بد گماں ہوتا نہیں

طعنہ زن ناصح نہ ہو تو مجھ کو عریاں دیکھ کر
عاشق شوریدہ رسوائے جہاں ہوتا نہیں

بد گمانی ہے مری وہ غیر پر ہے مہرباں
ایسا کافر دل کسی پر مہرباں ہوتا نہیں

تفرقہ الفت میں ہو پھر کیا کھلے قدر وفا
بے ملے دونوں دلوں کے امتحاں ہوتا نہیں

یاد تھی جتنی خوشامد ہم نے وہ بھی صرف کی
پھر بھی راضی ہم سے اس کا پاسباں ہوتا نہیں

وضع بے مہری کی چھوڑو عیب لگتا ہے تمہیں
مہرباں ہو کر کوئی نا مہرباں ہوتا نہیں

وہم ہے یا سہم ہے قاتل کو یا میرا خیال
ہاتھ کانپے جاتے ہیں خنجر رواں ہوتا نہیں

ذائقہ راقمؔ نہیں آتا فراق یار کا
کچھ رگ و پے میں لہو جب تک رواں ہوتا نہیں

راقم دہلوی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم