MOJ E SUKHAN

آج کی رات

آج کی رات کے بعد آئے گا
اور اک نوح کا طوفانِ عظیم
کوہساروں کے گراں بار وجود
اور یہ بازی گریِ زرد و کبود
خواب گاہوں کے یہ شب تاب سبو
بزمِ عرفاں کا یہ ہنگامۂ ہُو
دم بہ دم ایبک و سوری کی حدیث
اور یہ آئینِ جہانِ تثليث
سنگ و آہن جو پگھلتے ہی نہیں
اپنا عنوان، بدلتے ہی نہیں
جس سفینے میں جگہ پائیں گے
وہ سفینہ ہی الٹ جائے گا
٭٭٭
عزیز حامد مدنی

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم