MOJ E SUKHAN

آج ہوگا نہ تماشا کوئی ہونے والا

غزل

آج ہوگا نہ تماشا کوئی ہونے والا
جا چکا خون میں پوشاک بھگونے والا

جس سے تا حشر رگ جاں میں اجالا کرتے
داغ ہوتا کوئی بے داغ نہ ہونے والا

تک رہا ہوں بڑی مدت سے بڑی حسرت سے
گھر کی دہلیز پہ بیٹھا ہے کھلونے والا

اہل غم سارے سکندر کی طرف لوٹ گئے
اب سر دار چراغاں نہیں ہونے والا

تم بھی اس شہر میں بن جاؤ گے پتھر جیسے
ہنسنے والا ہے یہاں کوئی نہ رونے والا

خواب در خواب ہے وہ تیرہ شبی کا عالم
تو بھی آئے تو چراغاں نہیں ہونے والا

میر منزل سے تباہی کا سبب کیا پوچھیں
دور بیٹھا ہے سفینے کو ڈبونے والا

چادر گل کے پرستار کہاں ہو ماہرؔ
ڈھونڈھتا ہے تمہیں صحرا میں بچھونے والا

کیلاش ماہر

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم