MOJ E SUKHAN

آخر خود اپنے ہی لہو میں ڈوب کے صرف وغا ہو گے

آخر خود اپنے ہی لہو میں ڈوب کے صرف وغا ہو گے
قدم قدم پر جنگ لڑی ہے کہاں کہاں برپا ہو گے

حال کا لمحہ پتھر ٹھہرا یوں بھی کہاں گزرتا ہے
ہاتھ ملا کر جانے والو دل سے کہاں جدا ہو گے

موجوں پر لہراتے تنکو چلو نہ یوں اترا کے چلو
اور ذرا یہ دریا اترا تم بھی لب دریا ہو گے

سوچو کھوج ملا ہے کس کو راہ بدلتے تاروں کا
اس وحشت میں چلتے چلتے آپ ستارہ سا ہو گے

سینے پر جب حرف تمنا درد کی صورت اترے گا
خودی آنکھ سے ٹپکو گے اور خود ہی دست دعا ہو گے

سوکھے پیڑوں کی سب لاشیں غرق کف سیلاب میں ہیں
قحط آب سے مرتے لوگو بولو اب کیا چاہو گے

بات یہ ہے اس باغ میں پھول سے پتا ہونا اچھا ہے
رنگ اور خوشبو بانٹو گے تو پہلے رزق ہوا ہو گے

اے میرے نا گفتہ شعرو یہ تو بتاؤ میرے بعد
کون سے دل میں قرار کرو گے کس کے لب سے ادا ہو گے

توصیف تبسم

Email
Facebook
WhatsApp

مزید شاعری

رباعیات

غزلیات
نظم